ابنا: عراقی پارلیمنٹ کےاراکین نے سعودی عرب کے حالیہ اقدام کو مداخلت پسندی سےتعبیرکیا ہے اوراسے بین الاقوامی اصولوں کےمنافی قراردیا ہے۔بعض عراقی سیاستدانوں نے عراقی شیوخ اورقبائل کےسرداروں کودی جانےوالی دعوت کو عراقیوں کوایک دوسرےکےمدمقابل کھڑا کرنےکی کوشش قراردیا ہے۔عراقی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اوردفاعی کمیشن کےسربراہ حسن سنید نے اس ملک کےقبائلی سرداروں سےمطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی بادشاہ کی دعوت کومستردکرتےہوئے اس پرردعمل ظاہرکریں۔عراقی پارلیمنٹ میں قومی اتحاد سے وابستہ دھڑے نے بھی کہا ہے کہ ریاض کی دعوت، اس ملک کےامور میں کھلی مداخلت ہے۔ انھوں نے علاقے کےکچہ بحرانوں میں ریاض کےکردار کاذکرکرتےہوئے کہا کہ عرب ممالک میں ریاض کی جانب سےمسائل کھڑےکئےجانے کےکردار سے سبھی واقف ہیں اورسعودی حکام عراق میں جمہوری نظام سے ناخوش ہيں لہذا وہ چاہتے ہيں اس ملک کے سیاسی نظام کواپنی مرضی کےمطابق تبدیل کردیں۔سعودی عرب نے گذشتہ برسوں میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر عراق کےداخلی امور میں مداخلت کی ہے یہاں تک کہ اس ملک میں جاری بدامنی کےپیچھے بھی ریاض کاہاتھ ہے۔ عراق کی تحریک انتفاضہ کے سکریٹری جنرل عامرالاسدی نے بھی اپنے ملک کی بدامنی میں سعودی سمیت عرب ممالک کا ہاتھ بتایا ہے۔عامرالاسدی نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب ،قطر، اورترکی عراق میں دہشتگردانہ کاروائيوں کےاصلی حامیوں میں ہیں۔انھوں نےکہا کہ سعودی عرب کی کوشش ہے کہ جہاں تک ہوسکے عراق میں داخلی جنگ اور قبائلی ونسلی جنگ کی آگ بھڑکائے۔عامرالاسدی نےعراق میں دہشتگردانہ کاروائیوں کو بےگناہوں کےخلاف پست جنگ سےتعبیرکیااورکہا کہ عراق میں دہشتگردانہ کاروائیاں سعودی عرب اوردوسرے عرب ممالک کی حمایت کی وجہ سے جاری ہیں ۔گذشتہ دنوں عراق کو بدامنی کی لہر کا سامنا رہا ہے۔عراق کےمختلف شہروں میں تقریبا ہردن کاربم دھماکے ہوتے رہے ہیں۔اس بیچ سعودی عرب ، قطر، اورمتحدہ عرب امارات کی شہریت کےحامل دھشتگردوں کی گرفتاری نے اس بات میں شک وشبہے کی کوئی گنجائش نہيں چھوڑی ہے کہ عراق بیرونی فتنوں کاشکار ہوگيا ہے۔سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ بندربن سلطان کے عراق دشمن طاقتوں اور اس ملک میں فعال دہشتگردگروہوں سے رابطے بغداد کےخلاف ریاض کےدشمنانہ رویے پرمہرتصدیق ہیں۔اس سب کےباوجود، بغداد حکومت نے اپنےبعض عرب پڑوسیوں کی جانب سےانجام پانے والی سازشوں کو ناکام بنانےکے لئے عراق میں قومی آشتی اورمفاہمت کاراستہ اختیارکیا ہے۔ پروگرام کےمطابق اس ہفتے کےآخر تک عراق کی تمام سیاسی جماعتیں اور گروہ ایک مشترکہ اجلاس منعقدکرنےوالے ہیں تاکہ شاید ملک کوسیاسی اورسیکورٹی بحران سےنکالنے کےلئے کوئی راستہ نکالا جاسکے۔اس اجلاس کےانعقاد کامقصد عرا ق کی بیچین فضاکوپرسکون بناناہے اگر تمام عراقی گروہ اس اجلاس کا خیرمقدم کریں تو یہ قومی اتفاق رائے کوعملی جامہ پہنانے کےلئے ایک مقدمہ اوراس ملک میں امن وامان کی بحالی کی سمت ایک قدم سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔......./169
14 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 463240
سعودی عرب کے فرمانروا ملک عبداللہ کی پانچ سوعراقی سربراہوں اور شیوخ کو دورے کی دعوت، عراقیوں کی نگاہ میں ریاض کی کھلی فتنہ انگیزی سےتعبیرکی جارہی ہے اوربغداد کےحکام نے اس پرشدید ردعمل ظاہرکیاہے۔